دشتِ بھٹکن کا نوحہ
از قلم: خلیل وجدان
رات کی پیشانی گرد سے اٹی ہوئی تھی
اور چاند
کسی یتیم بچے کی طرح
بادلوں کے دامن میں سسک رہا تھا
دشت خاموش تھا
مگر اس خاموشی کے اندر
ہزاروں بین دبے ہوئے تھے
جیسے ریت کا ہر ذرّہ
کسی بچھڑے ہوئے نام کو
پکار پکار کر تھک گیا ہو
میں نے دیکھا
ایک دریا تھا
جو پانی سے بھرا ہوا تھا
مگر اس کی روح پیاسی تھی
اس کے کناروں پر
ہونٹوں کی شکستہ دعائیں پڑی تھیں
اور ہوا
مشک کے پھٹے ہوئے خواب اٹھائے پھرتی تھی
دور کہیں
ایک خیمہ
شعلوں کی زبان میں
اپنا آخری مرثیہ پڑھ رہا تھا
راکھ اڑتی تھی
اور آسمان
اپنی نیلی چادر میں
داغ چھپانے کی ناکام کوشش کرتا تھا
ایک ننھا سا چاند
ریت پر گرا تھا
جس کی پیشانی پر
تشنگی کا آخری بوسہ ثبت تھا
فضا میں
کسی بہن کی خاموش چیخ
اب بھی معلق تھی
کسی ماں کی دعا
اب بھی سفر میں تھی
اور کسی سجدے کی روشنی
نیزوں کی نوک پر لرز رہی تھی
میں نے وقت سے پوچھا
یہ کیسا المیہ تھا
جس کے بعد
صدیاں گزر گئیں
مگر درد بوڑھا نہ ہوا؟
وقت رو پڑا
اس نے ریت کی طرف اشارہ کیا
جہاں خون کا ایک قطرہ
اب بھی سورج سے زیادہ روشن تھا
تب مجھے معلوم ہوا
کرب صرف قتل کا نام نہیں
یہ تو وہ زخم ہے
جو انسان کی روح پر لگتا ہے
اور پھر قیامت تک
رستا رہتا ہے
دشتِ بھٹکن آج بھی قائم ہے
فرات آج بھی بہتا ہے
پیاس آج بھی زندہ ہے
اور حق کا مسافر
آج بھی
تنہائی کے صحرا میں
اپنے لہو سے
راستے کا چراغ روشن کرتا ہے
ہر عہد کا اندھیرا
اسی ایک روشنی سے ڈرتا ہے
اسی لیے
جب بھی رات بہت گہری ہو جاتی ہے
کربلا
دور افق پر
ایک سجدہ گاہ
دکھائی دینے لگتی ہے

No comments:
Post a Comment