ماہ محرم کی فضیلت
از قلم: عائش احمد
محرم الحرام اسلامی (قمری) سال کا پہلا ماہ ہے۔ جو اللہ کے ہاں نہایت قابلِ قدر اور عظمت والا مہینہ ہے۔ جسے "شریعت کی رو میں"اشھر الحرم" یعنی (حرمت والے مہینوں ) لمیں شمار کیا جاتا ہے۔ اس بابرکت مہینے کی چند خصوصیات و فضائل درج ذیل ہیں:
ویسے تو اس پورے مہینے میں ہی روزے رکھنے کی فضیلت احادیث میں وارد ہوئی ہے، اور آپ ﷺ نے ماہِ محرم میں روزہ رکھنے کی ترغیب دی ہے۔ جیسا کہ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا : "جو شخص یومِ عرفہ کا روزہ رکھے گا تو اس کے دو سال کے (صغیرہ) گناہوں کا کفارہ ہوجائے گا اور جو شخص محرم کے مہینہ میں ایک روزہ رکھے گا، اس کو ہر روزہ کے بدلہ میں تیس روزوں کا ثواب ملے گا" اسی طرح ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے:
"حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : "افضل ترین روزے رمضان کے بعد ماہ محرم کے ہیں، اور فرض کے بعد افضل ترین نماز رات کی نماز ہے۔"
مگر محرم کی دسویں تاریخ (یومِ عاشورہ ) کے روزے کا ثواب سب سے زیادہ ہے۔ لیکن یاد رہے کہ یہودیوں اور عیسائیوں کی مخالفت کرتے ہوئے اس کے ساتھ نویں محرم کا روزہ بھی ملانا مستحب ہے،
چنانچہ حدیث شریف میں ہے:
حضرت عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: "عاشورہ کے دن روزہ رکھو اور یہود کی مخالفت کرو، اس سے ایک دن پہلے یا ایک دن بعد کا روزہ بھی رکھو"
سب سے افضل یہ ہے کہ نو اور دس محرم (دو روزے) رکھے جائیں۔
دوسری صورت یہ ہے کہ دسویں اور گیارھویں محرم کے روزے رکھے جائیں۔
تیسری صورت یہ ہے کہ صرف دس محرم کا روزہ رکھا جائے۔
محرم الحرام اسلامی (قمری) سال کا پہلا ماہ ہے۔ جو اللہ کے ہاں نہایت قابلِ قدر اور عظمت والا مہینہ ہے۔ جسے "شریعت کی رو میں"اشھر الحرم" یعنی (حرمت والے مہینوں ) لمیں شمار کیا جاتا ہے۔ اس بابرکت مہینے کی چند خصوصیات و فضائل درج ذیل ہیں:
ویسے تو اس پورے مہینے میں ہی روزے رکھنے کی فضیلت احادیث میں وارد ہوئی ہے، اور آپ ﷺ نے ماہِ محرم میں روزہ رکھنے کی ترغیب دی ہے۔ جیسا کہ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا : "جو شخص یومِ عرفہ کا روزہ رکھے گا تو اس کے دو سال کے (صغیرہ) گناہوں کا کفارہ ہوجائے گا اور جو شخص محرم کے مہینہ میں ایک روزہ رکھے گا، اس کو ہر روزہ کے بدلہ میں تیس روزوں کا ثواب ملے گا" اسی طرح ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے:
"حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : "افضل ترین روزے رمضان کے بعد ماہ محرم کے ہیں، اور فرض کے بعد افضل ترین نماز رات کی نماز ہے۔"
مگر محرم کی دسویں تاریخ (یومِ عاشورہ ) کے روزے کا ثواب سب سے زیادہ ہے۔ لیکن یاد رہے کہ یہودیوں اور عیسائیوں کی مخالفت کرتے ہوئے اس کے ساتھ نویں محرم کا روزہ بھی ملانا مستحب ہے،
چنانچہ حدیث شریف میں ہے:
حضرت عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: "عاشورہ کے دن روزہ رکھو اور یہود کی مخالفت کرو، اس سے ایک دن پہلے یا ایک دن بعد کا روزہ بھی رکھو"
سب سے افضل یہ ہے کہ نو اور دس محرم (دو روزے) رکھے جائیں۔
دوسری صورت یہ ہے کہ دسویں اور گیارھویں محرم کے روزے رکھے جائیں۔
تیسری صورت یہ ہے کہ صرف دس محرم کا روزہ رکھا جائے۔

No comments:
Post a Comment