بے روزگاری اور خاندانی مسائل
تحریر: سید ساجد علی شاہ
بے روزگاری کسی بھی ملک اور معاشرے کے لیے محض ایک معاشی مسئلہ نہیں، بلکہ ایک ایسا خاموش طوفان ہے جو فرد کی شخصیت، خاندان کے سکون اور پورے معاشرے کے استحکام کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔ جب کسی نوجوان کی آنکھوں میں روشن مستقبل کے خواب ہوں، والدین نے اپنی جمع پونجی اس کی تعلیم پر خرچ کی ہو، مگر تعلیم مکمل کرنے کے باوجود اسے روزگار نہ ملے تو اس کی مایوسی صرف اس کی ذات تک محدود نہیں رہتی، بلکہ پورا خاندان اس کرب کو محسوس کرتا ہے۔ ایک طرف مہنگائی کی بے رحم لہر روزمرہ زندگی کو دشوار بنا رہی ہے اور دوسری طرف بے روزگاری لاکھوں خاندانوں کو معاشی، ذہنی اور سماجی بحرانوں میں دھکیل رہی ہے۔ یہی وہ تلخ حقیقت ہے جس نے معاشرے میں بے چینی، اضطراب اور غیر یقینی کی کیفیت پیدا کر دی ہے۔
پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں بے روزگاری کے اسباب صرف روزگار کے مواقع کی کمی تک محدود نہیں، بلکہ اس کے پیچھے کئی بنیادی عوامل کارفرما ہیں۔ آبادی میں مسلسل اضافہ، صنعتی ترقی کا فقدان، میرٹ کی پامالی، سفارش اور اقربا پروری، بدعنوانی، ناقص تعلیمی نظام، فنی مہارتوں کی کمی اور معاشی منصوبہ بندی کا فقدان اس مسئلے کو مزید سنگین بنا رہے ہیں۔ ہر سال ہزاروں نوجوان ڈگریاں لے کر عملی میدان میں قدم رکھتے ہیں، لیکن انہیں اپنی صلاحیتوں کے مطابق ملازمت میسر نہیں آتی۔ بعض اوقات ایک معمولی آسامی کے لیے سینکڑوں، بلکہ ہزاروں امیدوار درخواست دیتے ہیں، مگر کامیابی صرف چند افراد کے حصے میں آتی ہے۔ باقی نوجوان انتظار، بے یقینی اور مایوسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
جب بے روزگاری کے ساتھ مہنگائی بھی مسلسل بڑھتی رہے تو گھریلو زندگی شدید متاثر ہوتی ہے۔ بجلی، گیس، پٹرول، آٹا، چینی، دالیں، ادویات، بچوں کی تعلیم اور دیگر بنیادی ضروریات کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ متوسط اور غریب طبقے کے لیے زندگی کو عذاب بنا دیتا ہے۔ ایک باپ جب اپنے بچوں کی فیس ادا نہ کر سکے، بیمار والدین کی دوائیں نہ خرید سکے یا گھر کا ماہانہ خرچہ پورا کرنے سے قاصر ہو جائے تو اس کے دل پر کیا گزرتی ہوگی، اس کا اندازہ صرف وہی شخص لگا سکتا ہے جو اس آزمائش سے گزر رہا ہو۔ معاشی دباؤ انسان کی سوچ، مزاج اور رویے کو بھی متاثر کرتا ہے، جس کے نتیجے میں گھروں کا سکون ختم ہونے لگتا ہے۔
خاندان کسی بھی معاشرے کی بنیادی اکائی ہوتا ہے، اور اگر یہی اکائی کمزور ہو جائے تو پورا معاشرہ عدم استحکام کا شکار ہو جاتا ہے۔ بے روزگاری کی وجہ سے جب مالی وسائل محدود ہو جائیں تو میاں بیوی کے درمیان اختلافات بڑھنے لگتے ہیں۔ معمولی نوعیت کے مسائل بھی بڑے تنازعات کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ بچوں کی خواہشات پوری نہ ہونے سے ان کے دلوں میں احساسِ محرومی جنم لیتا ہے، جبکہ والدین خود کو بے بس محسوس کرتے ہیں۔ اس ماحول میں محبت، اعتماد، برداشت اور ایثار جیسی خوبصورت اقدار آہستہ آہستہ دم توڑنے لگتی ہیں، اور خاندانی نظام کمزور پڑ جاتا ہے۔
نوجوان کسی بھی قوم کا سب سے قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں، مگر جب انہیں مسلسل بے روزگاری، ناانصافی اور معاشی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے تو ان کی امیدیں دم توڑنے لگتی ہیں۔ بے شمار نوجوان ڈپریشن، ذہنی دباؤ، احساسِ کمتری اور بے یقینی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ بعض نوجوان مایوسی میں بیرونِ ملک غیر قانونی راستے اختیار کرتے ہیں، کچھ منشیات کی طرف مائل ہو جاتے ہیں، جبکہ بعض جرائم کی دنیا میں قدم رکھ دیتے ہیں۔ اس سے بھی زیادہ افسوس ناک امر یہ ہے کہ کچھ لوگ شدید معاشی پریشانی اور ناامیدی کے باعث اپنی زندگی کا خاتمہ کرنے جیسے انتہائی قدم اٹھا لیتے ہیں، جو پورے معاشرے کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔
اسلام نے محنت، دیانت اور حلال رزق کو عبادت کا درجہ دیا ہے۔ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "وَأَنْ لَيْسَ لِلْإِنْسَانِ إِلَّا مَا سَعَىٰ" (سورۂ النجم: 39)، یعنی انسان کو وہی ملتا ہے جس کی وہ کوشش کرتا ہے۔ اسی طرح رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "کسی انسان نے اپنے ہاتھ کی کمائی سے بہتر کھانا کبھی نہیں کھایا۔" (صحیح بخاری)۔ یہ تعلیمات اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہیں کہ محنت، دیانت اور حلال روزی ہی فرد اور معاشرے کی حقیقی خوش حالی کی بنیاد ہیں، جبکہ معاشرے کی ذمہ داری ہے کہ ہر محنت کرنے والے کو عزت اور مساوی مواقع فراہم کرے۔
یہ مسئلہ صرف حکومت یا کسی ایک ادارے کی ذمہ داری نہیں، بلکہ پورے معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ حکومت کو روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے، صنعتوں کو فروغ دینے، نوجوانوں کو فنی تعلیم اور آسان قرضوں کی فراہمی، اور میرٹ پر مبنی نظام کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کرنے ہوں گے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنی اولاد کو صرف ڈگری حاصل کرنے کی تلقین نہ کریں، بلکہ انہیں ہنر، خود انحصاری اور کاروباری صلاحیتوں کی طرف بھی راغب کریں۔ جب تک ہم اجتماعی طور پر بے روزگاری کے اس ناسور کے خاتمے کے لیے سنجیدہ کوشش نہیں کریں گے، اس وقت تک خاندانی مسائل، معاشرتی بے چینی اور اخلاقی زوال پر قابو پانا ممکن نہیں ہوگا۔
No comments:
Post a Comment