Discover Pakistan's very first online Urdu digest curated by Aleena Khan. Read top-rated romantic and social Urdu novels, thrilling horror stories, travelogues, and historical articles. The ultimate digital reading hub for Urdu literature lovers and emerging writers.

Top Menu

test

Sunday, July 12, 2026

منفی قوتوں کے بہتے دریا - ہماری ڈائجسٹ ڈیجیٹل

 

 منفی قوتوں کے بہتے دریا


از قلم: ڈاکٹر شاہد ایم شاہد

انسان کی زندگی میں بیک وقت دو قوتیں کام کر رہی ہوتی ہیں۔ پہلی قوت کا نام مثبت عمل جب کہ دوسری منفی سر گرمیوں کا پروپیگنڈا ہے۔ ان دونوں کے درمیان آسمان و زمین جیسا فاصلہ ہے۔ یوں سمجھ لیجے جیسے مشرق سے مغرب دور ہے بالکل اسی طرح مثبت اور منفی عمل کے درمیان فاصلہ ہے۔ انسان چاہے تو اپنے عمل سے دنیا کو جنت بنا سکتا ہے اور اگر نہ چاہے تو یہی دنیا جہنم کی بھٹی ہے۔

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جو تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں، وہ انسانی زندگی پر سوالوں کا ایک جتھا بن چکی ہیں۔ شاید انسان خالق کائنات کے سامنے اپنے اعمال کا جواب نہ دے سکے کیونکہ اذہان و قلوب میں ابلیسیت اور شیطانیت جس قدر بڑھ چکی ہے، وہ اقوام عالم کے لیے ایک چیلنج بن چکا ہے۔ ہر کوئی اپنی اپنی جگہ پریشان ہے، شکوک و شبہات کی آگ میں جل رہا ہے، زندگی و موت کو قریب سے دیکھ رہا ہے۔

زندگی کے مختصر عرصے میں اس کے دل و دماغ میں زندگی کی جو تصویر بن چکی ہے، وہ داغوں سے بھری، فریب پر مبنی، کروٹ بدلنے والا احساس اور انا پرستی کی جنگ لڑنے والا سانپ ہے۔ ایک قوت اپنے اندر زندگی کی تحریک رکھتی ہے جب کہ دوسری موت کی طرف اشارہ کرتی ہے۔

عصر حاضر میں روز بروز ظلم و ستم کے بڑھتے ہوئے واقعات ، منفی سرگرمیاں ، خواتین پر تشدد ، چھوٹی بچیوں کے ساتھ ریپ ، اغواء برائے تاوان جیسے واقعات ایسے حالات کی طرف اشارہ کرتے ہیں، جہاں معاشرے میں خوف و ہراس ، اعتماد کی کمی ، بربریت کا راج ، بہروپیا پن ، تخریب کاری اور دہشت گردی جیسے عوامل جس سرعت  کے ساتھ پھیل رہے ہیں ، ماضی ایسی خوف ناک تاریخ سے مبرا تھا۔ 

دنیا بھر میں عجیب سی کیفیت پیدا ہو چکی ہے۔ ہر کوئی ایک دوسرے سے خوف زدہ ہے، سہم سہما دکھائی دیتا ہے، اداس اداس سا ہے۔ چہرے پر غم کی سلوٹیں ہیں، ہونٹ و زبان خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ حالات و واقعات نے گھروں کو سنسان اور حقیقی خوشیوں کو چھین لیا ہے۔ وہم و گمان کی آلودہ فضا ہے، ناپاک عزائم کی زہر آلود آب و ہوا پھیلی ہوئی ہے۔ اعتماد کی اس قدر کمی ہے کہ دلیل کے لیے کوئی ثبوت نہیں۔ یقینا جب کسی بھی معاشرے میں ایسی گمبھیر حالت پیدا ہو جائے تو اس کے ٹوٹنے اور بکھرنے کا شور مچ جاتا ہے۔

وقت چیخ چیخ کر دہائی دے رہا ہوتا ہے کہ حالات بگڑ رہے ہیں۔ صورت حال بے قابو ہو رہی ہے۔ ظلم و ستم کا شور خدا کے کانوں تک پہنچ رہا ہے۔ زمین گناہ کے ناسوروں سے بھرتی جا رہی ہے۔ سینے کے داغ بڑھتے جا رہے ہیں۔ ہاتھ خون آلودہ اور دل پر نفرتوں کے ڈھیر ہیں۔

انسانوں کے درمیان ایک عجیب سی کش مکش پائی جاتی ہے۔ بہت سے لوگ دکھی، مجبور اور لاچار ہیں۔ بہتوں کو نفسیاتی طریقے استعمال کر کے پریشان کیا جاتا ہے۔ گمراہی اور برگشتگی پھیلائی جاتی ہے، ناحق فیصلے کیے جا رہے ہیں۔ کوئی اچھی خبر سننے کو نہیں ملتی۔ اخبارات کی سرخیاں سیاسی منظر نامے اور ظلم و ستم کی داستانیں سناتی نظر آتی ہیں۔ وسیع النظری اور وسیع القلبی کی خاطر خواہ کمی ہے۔ جھوٹ کے راگ الاپے سن کر دل خون کے آنسو روتا ہے۔ خواہشیں پاؤں تلے روندی جا رہی ہیں، جذبات کچلے جا رہے ہیں۔ ایک ہی زبان سے کھارا اور میٹھا پانی نکل رہا ہے۔ شکوک و شبہات تیزی سے پھیل رہے ہیں۔ ہر سو افرا تفری اور بے چینی ہے۔ کہیں موسموں کی تبدیلی ہے، کہیں دلوں کے بدلنے کا تصور ہے، کہیں جھوٹی انا کا مسئلہ ہے۔

ہر شخص اپنے اندر کوئی نہ کوئی منفی سرگرمی کا روپ رکھتا ہے۔ شاید وہ اپنے اوپر بیتے ہوئے واقعات کے گہرے زخموں کو بیان کرنے سے قاصر ہے۔ کبھی کبھی معاشرتی درجہ بندیاں اور مجبوریاں زبان پر تالا لگا دیتی ہیں، لیکن انتقام کا شعلہ دل و دماغ میں مسلسل ابلتا رہتا ہے۔ اسے جب وقت میسر آتا ہے، وہ لاوے کی طرح پھوٹ نکلتا ہے۔ آس پاس کے لوگوں پر آگ کی چنگاریاں جاگرتی ہیں۔ یہ غصے کی تصویر کا ماتم ہے جو اندرونی زخموں کی داستان گنگناتا ہے۔ اگرچہ زندگی سلگتے کوئلے کی مانند ہے، اس کا درجہ حرارت جذبات کی صورت میں گھٹتا بڑھتا ہے۔

دنیا پر روز بروز گناہ کا قرض بڑھ رہا ہے۔ انسان ذہنی دباؤ کا شکار ہیں، نتیجتاً نفسیاتی امراض بڑھ رہے ہیں۔

ایک طرف جسمانی بیماریاں ہیں ، دوسری طرف نفسانی روگ ہیں تیسری طرف جذباتیت کا شکار معاشرہ ہے۔تینوں ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے بڑھ رہے ہیں۔دنیا رنگین سے رنگین ہوتی جا رہی ہے۔عام سی باتیں بھی ڈرامائی انداز کا روپ اوڑھ چکی ہیں۔فسادات ، فتنے ، فرقے ، ناچاقیاں ، رعب و دبدبہ وباء کی طرح پھیل چکا ہے۔حالات و واقعات کی سنگین تصویر دیکھ کر بتائیں کہ منفی قوتوں کے دریا بہتے ہیں یا نہیں؟

No comments:

Social Icons

Hidden_Menu

Above Post Title Slider

HOME, MENU
Powered by Blogger.

Post Top Ad

Your Ad Spot

Pages