Discover Pakistan's very first online Urdu digest curated by Aleena Khan. Read top-rated romantic and social Urdu novels, thrilling horror stories, travelogues, and historical articles. The ultimate digital reading hub for Urdu literature lovers and emerging writers.

Top Menu

test

Saturday, July 18, 2026

غریب کا بجھتا چولہا - ہماری ڈائجسٹ ڈیجیٹل کے لیے ایک خاص سماجی تحریر

 غریب کا بجھتا چولہا

ایک کلاسک اداس پسِ منظر جس میں ایک بجھتا ہوا روایتی مٹی کا چولہا اور پاس رکھے خالی برتن دکھائی دے رہے ہیں۔ تصویر کے وسط میں جلی اور خوبصورت نستعلیق اردو خطاطی میں لکھا ہے: "غریب کا بجھتا چولہا"، اس کے نیچے "تحریر: سید ساجد علی شاہ" اور سب سے نیچے "ہماری ڈائجسٹ ڈیجیٹل" لکھا ہوا ہے۔

تحریر: سید ساجد علی شاہ

کسی بھی ریاست کی ترقی کا اصل پیمانہ اس کے بلند و بالا منصوبے، شاندار عمارتیں یا بڑے بڑے ترقیاتی دعوے نہیں ہوتے؛ بلکہ اس ملک کے عام شہری کی زندگی کا معیار ہوتا ہے۔ جب ایک مزدور شام کو تھکا ہارا گھر لوٹے اور اس کے بچوں کے چہروں پر مسکراہٹ ہو، جب سفید پوش باعزت طریقے سے اپنے اہلِ خانہ کی ضروریات پوری کر سکے، اور جب کسی ماں کو اپنے بچوں کو بھوکا سلا کر آنسو نہ بہانے پڑیں؛ تب ہی کسی معاشرے کو حقیقی معنوں میں خوشحال کہا جا سکتا ہے۔ افسوس کہ آج ہمارا معاشرہ ایک ایسے دور سے گزر رہا ہے جہاں مہنگائی نے ہر طبقۂ فکر کی زندگی اجیرن بنا دی ہے اور سب سے زیادہ متاثر وہ غریب ہے جس کے گھر کا چولہا آہستہ آہستہ بجھتا جا رہا ہے۔

آج اگر کسی بازار کا رخ کیا جائے تو ہر چیز کی قیمت آسمان سے باتیں کرتی دکھائی دیتی ہے۔ آٹا، چینی، گھی، دالیں، سبزیاں، گوشت، دودھ، ادویات، بجلی، گیس اور پٹرول جیسی بنیادی ضروریات عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتی جا رہی ہیں۔ روزانہ دیہاڑی کرنے والا مزدور صبح اس امید کے ساتھ گھر سے نکلتا ہے کہ شام کو بچوں کے لیے رزق لے کر واپس آئے گا؛ مگر جب اسے مناسب مزدوری نہیں ملتی یا اجرت مہنگائی کے سامنے بے معنی ہو جاتی ہے، تو اس کی بے بسی لفظوں میں بیان نہیں کی جا سکتی۔

پاکستان کا سفید پوش طبقہ بھی شدید ذہنی اذیت کا شکار ہے۔ وہ نہ کسی کے سامنے ہاتھ پھیلا سکتا ہے اور نہ ہی اپنے بچوں کی خواہشات پوری کر سکتا ہے۔ ایک سرکاری یا نجی ملازم اپنی محدود تنخواہ میں کرایہ، بجلی، گیس، بچوں کی فیس، علاج اور روزمرہ اخراجات پورے کرنے کی کوشش کرتا ہے مگر ہر ماہ بجٹ خسارے کا شکار ہو جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں قرض، پریشانی اور ذہنی دباؤ اس کی زندگی کا حصہ بن جاتے ہیں۔ مہنگائی صرف معاشی مسئلہ نہیں بلکہ ایک سماجی المیہ بھی ہے۔ جب غربت بڑھتی ہے تو جرائم میں اضافہ ہوتا ہے، تعلیم کا معیار متاثر ہوتا ہے، صحت کی سہولیات غریب کی پہنچ سے باہر ہو جاتی ہیں اور معاشرے میں بے چینی جنم لیتی ہے۔ کئی والدین مجبوری کے باعث اپنے بچوں کو اسکول سے نکال کر مزدوری پر لگا دیتے ہیں تاکہ گھر کا چولہا جل سکے۔ یہ وہ لمحہ ہوتا ہے جب ایک قوم اپنا مستقبل اپنے ہی ہاتھوں کمزور کر دیتی ہے۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ مہنگائی کا بوجھ ہمیشہ کمزور طبقے پر ہی ڈالا جاتا ہے۔ ناجائز منافع خوری، ذخیرہ اندوزی اور مصنوعی قلت پیدا کرنے والے عناصر عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ کرتے ہیں۔ اگر قانون پر سختی سے عمل درآمد ہو اور ایسے عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے تو عوام کو کسی حد تک ریلیف مل سکتا ہے۔ اسلام ہمیں اعتدال، انصاف اور ضرورت مندوں کی مدد کا درس دیتا ہے۔ زکوٰۃ، صدقات اور خیرات کا نظام اسی لیے مقرر کیا گیا تاکہ معاشرے میں کوئی شخص بھوکا نہ سوئے۔ آج صاحبِ حیثیت افراد، صنعت کار، تاجر اور مخیر حضرات پر بھی یہ اخلاقی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے اردگرد موجود مستحق خاندانوں کی مدد کریں۔ اگر ہر صاحبِ استطاعت شخص صرف ایک ضرورت مند خاندان کا سہارا بن جائے تو بے شمار گھروں کے بجھے ہوئے چولہے دوبارہ روشن ہو سکتے ہیں۔

یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ مہنگائی صرف بازار میں قیمتیں بڑھنے کا نام نہیں؛ بلکہ یہ انسان کی امید، خودداری اور خوابوں کو بھی آہستہ آہستہ نگلنے لگتی ہے۔ جب ایک باپ اپنے بچوں کی معمولی خواہش بھی پوری نہ کر سکے، جب ایک ماں خالی برتنوں کو دیکھ کر سوچنے لگے کہ آج بچوں کے لیے کیا پکایا جائے، اور جب بزرگ اپنی بیماری کے باوجود صرف اس لیے دوا نہ خرید سکیں کہ گھر میں راشن ختم ہو چکا ہے؛ تو سمجھ لینا چاہیے کہ مسئلہ صرف معیشت کا نہیں بلکہ انسانیت کا بھی ہے۔ ہمارے دیہات اور شہروں میں ہزاروں ایسے خاندان موجود ہیں جو روزانہ کی بنیاد پر رزق کماتے اور اسی دن خرچ کر دیتے ہیں۔ اگر ایک دن کام نہ ملے تو ان کے گھروں کے چولہے ٹھنڈے پڑ جاتے ہیں۔ مزدور، رکشہ ڈرائیور، ریڑھی بان، کسان، چھوٹے دکاندار اور محنت کش طبقہ مہنگائی کی اس دوڑ میں سب سے زیادہ پس رہا ہے۔ دوسری طرف تعلیم یافتہ نوجوان بے روزگاری کے باعث مایوسی کا شکار ہیں۔ ڈگریاں ہاتھ میں ہیں مگر روزگار کے دروازے بند دکھائی دیتے ہیں۔

زرعی ملک ہونے کے باوجود خوراک کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ لمحۂ فکریہ ہے۔ کسان کو اس کی فصل کا مناسب معاوضہ نہیں ملتا جبکہ صارف مہنگے داموں اشیائے خور و نوش خریدنے پر مجبور ہے۔ اس فرق سے فائدہ صرف وہ مافیا اٹھاتا ہے جو ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کے ذریعے عوام کا استحصال کرتا ہے۔ اگر حکومت زرعی اصلاحات، منڈیوں کی نگرانی اور قیمتوں کے مؤثر نظام پر توجہ دے تو عوام کو حقیقی ریلیف مل سکتا ہے۔ اسی طرح بجلی، گیس اور پٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی قیمتیں ہر شعبۂ زندگی کو متاثر کرتی ہیں۔ جب پیداواری لاگت بڑھتی ہے تو صنعتیں بھی دباؤ کا شکار ہوتی ہیں، کاروبار سکڑتے ہیں اور روزگار کے مواقع کم ہو جاتے ہیں۔ یوں مہنگائی کا ایک ایسا دائرہ وجود میں آتا ہے جس کا سب سے بڑا شکار عام شہری بنتا ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت معاشی استحکام کے لیے طویل المدتی منصوبہ بندی کرے، ٹیکس نظام کو منصفانہ بنائے، چھوٹے کاروبار کو فروغ دے، نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرے اور غریب طبقے کو صحت، تعلیم اور بنیادی اشیائے ضروریہ میں حقیقی سہولتیں فراہم کرے۔ صرف اعلانات یا وقتی ریلیف سے مسائل حل نہیں ہوں گے؛ بلکہ شفاف حکمرانی، دیانت دارانہ پالیسیوں اور مؤثر نگرانی کی ضرورت ہے۔ معاشرے کی اجتماعی ذمہ داری بھی کم نہیں۔ اگر ہم فضول خرچی سے بچیں، ضرورت مندوں کی مدد کریں، مقامی مصنوعات کو فروغ دیں اور اپنے اردگرد موجود مستحق خاندانوں کا خیال رکھیں تو بہت سے بجھے ہوئے چولہے دوبارہ روشن ہو سکتے ہیں۔ انسانیت کا تقاضا یہی ہے کہ ہم دوسروں کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھیں۔

ایک مہذب قوم وہی ہوتی ہے جو اپنے کمزور طبقات کو تنہا نہیں چھوڑتی۔ ریاست، معاشرہ اور صاحبِ حیثیت افراد اگر مل کر اپنا کردار ادا کریں تو یقیناً وہ دن دور نہیں جب ہر گھر میں امید کی روشنی ہوگی، ہر دسترخوان آباد ہوگا اور کسی غریب کو اپنے بچوں کی بھوک کے سامنے بے بس نہیں ہونا پڑے گا۔ غریب کا بجھتا چولہا صرف ایک خاندان کی کہانی نہیں، بلکہ پوری قوم کے ضمیر کا امتحان ہے۔ اگر ہم نے آج اس مسئلے کو سنجیدگی سے نہ لیا تو آنے والی نسلیں ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گی۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم اختلافات سے بالاتر ہو کر ایسے پاکستان کی تعمیر کریں جہاں محنت کرنے والے کو اس کی محنت کا پورا صلہ ملے، انصاف عام ہو، روزگار میسر ہو اور کسی گھر کا چولہا غربت اور مہنگائی کی وجہ سے بجھنے نہ پائے۔

No comments:

Social Icons

Hidden_Menu

Above Post Title Slider

HOME, MENU
Powered by Blogger.

Post Top Ad

Your Ad Spot

Pages