سورہ العصراور اہمیتِ وقت
![]() |
تحریر: صغیر جعفری (ملتان)
قرآنِ مجید فرقانِ حمید بلا شبہ و مبالغہ تمام انسانوں کے لیے ہدایت کا سرچشمہ ہے۔ سورہ البقرہ کے ابتدائیہ میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: "الم ذٰلِکَ الْکِتٰبُ لَا رَیْبَ ۚ فِیْہِ ۚ هُدًی لِّلْمُتَّقِیْنَ"۔ یہ کتاب (قرآن مجید) ایسی ہے کہ اس میں کوئی نقص، عیب اور شک نہیں۔ یہ متقی لوگوں کے لیے ہدایت ہے۔ یہاں اللہ تعالیٰ کا تخاطب تمام بنی نوع انسان کے لیے ہے، صرف مسلمانوں کے لیے نہیں ہے؛ بلکہ تمام مذاہب کے لوگوں کے لیے ہے کہ قرآنِ کریم متقی لوگوں کے لیے ہدایت ہے، خواہ ان کا تعلق کسی بھی مذہب سے کیوں نہ ہو۔
قرآنِ پاک میں وقت کی اہمیت کے بارے میں مختلف مقامات پر ہدایت و انتباہ موجود ہے، اس کی بہترین مثال سورہ العصر میں بیان کی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ جب کسی چیز کی قسم کھا کر بات کرتے ہیں تو اس کی اہمیت انتہائی معتبر ہو جاتی ہے۔
قرآن میں عصر کی قسم، آخر کیوں؟
عصر کی قسم کے پیچھے کیا حکمت ہے؟
وہ راز جو ہر انسان کو معلوم ہونا چاہیے!
سورہ العصر قرآنِ مجید کی ان چند سورتوں میں سے ہے جو الفاظ کے لحاظ سے انتہائی مختصر، لیکن معانی اور حکمت کے لحاظ سے سمندر کی طرح گہری ہیں۔ امام شافعیؒ کا مشہور قول ہے کہ: "اگر لوگ صرف اسی ایک سورہ پر غور کر لیں، تو یہ ان کی ہدایت و رہنمائی کے لیے کافی ہو جائے گی"۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس سورۃ کی شروعات "عصر" یعنی "زمانے" یا "وقت" کی قسم کھا کر کیوں کی؟ اور اس قسم کے پیچھے وہ کیا حکمت اور راز چھپا ہے جو تمام انسانوں کو معلوم ہونا چاہیے؟ آئیے اس حکمت کو چند اہم نکات میں سمجھتے ہیں:
1۔ گواہی کے طور پر وقت کا انتخاب:
عربوں کا یہ دستور تھا کہ وہ اپنی بات پر زور دینے کے لیے کسی ایسی چیز کی قسم کھاتے تھے جو ان کے سامنے سچی، شک و شبہ سے پاک اور ناقابلِ تردید ہو۔ اللہ تعالیٰ نے زمانے کی قسم اس لیے کھائی کیونکہ زمانہ انسان کے ہر عمل کا گواہ ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جن قوموں نے وقت کی قدر کی اور ایمان و عملِ صالح کا راستہ چنا، وہ سرخرو اور کامیاب ہوئیں؛ اور جنہوں نے وقت کو ضائع کیا یا اس کا غلط استعمال کیا، وہ مٹ گئیں اور خسارے میں رہیں۔ مارکیٹنگ اینڈ سیلز پڑھنے والے طلباء، پڑھانے والے اساتذہ اور مارکیٹنگ و سیلز مینجمنٹ والے ادارے اپنی پروڈکٹس کی سیلز پروموشنل سرگرمیوں کے لیے وقت کی تنظیم (Time Management) کو کس قدر اہمیت دیتے ہیں کہ
"وقت پر لگایا گیا ایک ٹانکا، بعد کے نو ٹانکوں سے بچا لیتا ہے" (A stitch in time saves nine)۔
2۔ وقت کی تیزی اور انسانی غفلت:
"عصر" کا ایک مطلب دن کا آخری حصہ (شام کا وقت) بھی ہے۔ جس طرح سورج ڈوبنے کے وقت دن تیزی سے ختم ہو رہا ہوتا ہے، بالکل اسی طرح انسان کی زندگی کی مہلت بھی بہت تیزی سے ختم ہو رہی ہے۔ اس کی ایک خوبصورت مثال امام رازیؒ نے بیان فرمائی ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ: "میں نے ایک برف بیچنے والے کو دیکھا جو بازار میں آوازیں لگا رہا تھا کہ 'رحم کرو اس شخص پر جس کا سرمایہ پگھل کر ہاتھ سے نکلا جا رہا ہے!'" انسان کی زندگی بھی اسی برف کی طرح ہر لمحہ پگھل رہی ہے۔ اگر اس پگھلتے ہوئے وقت سے فائدہ اٹھا کر "ایمان اور نیک اعمال" نہ کمائے گئے، تو انسان مکمل طور پر دیوالیہ ہو جائے گا۔
3۔ کامیابی کا آفاقی فارمولا:
زمانے کی قسم کھانے کے فوراً بعد اللہ تعالیٰ نے انسان کو خسارے سے بچنے کا ایک ایسا فارمولا دیا ہے جس میں چار چیزیں شامل ہیں:
ایمان: دل کی سچی کیفیت اور اللہ پر کامل و محکم یقین۔
عملِ صالح: صرف سوچنا ہی نہیں، بلکہ اچھے اعمال کرنا۔
حق کی وصیت: معاشرے میں سچائی اور حق کی بات کو پھیلانا۔
صبر کی تلقین: مشکلات اور حق کی راہ میں ثابت قدم رہنا۔
وہ راز جو ہر انسان اور خاص طور پر مسلمان کو معلوم ہونا چاہیے:
اس سورۃ کا سب سے بڑا راز یہ ہے کہ انسان کے پاس دنیا میں سب سے قیمتی اور محدود اثاثہ اس کا "وقت" ہے۔ دولت، صحت اور شہرت کھو کر دوبارہ حاصل کی جا سکتی ہے، لیکن گزرا ہوا ایک سیکنڈ بھی اربوں روپے خرچ کر کے واپس نہیں لایا جا سکتا۔ اللہ تعالیٰ نے عصر کی قسم کھا کر ہمیں متنبہ کیا ہے کہ ہم وقت کی قید میں ہیں، گھڑی کی ہر ٹک ٹک ہمیں موت کے قریب لے جا رہی ہے۔ لہٰذا، عقلمند وہ نہیں جو صرف دنیا کے مال و اسباب جمع کرنے میں مصروف رہے، بلکہ عقلمند وہ ہے جو وقت کی اس اہمیت و قید سے فائدہ اٹھا کر آخرت کی دائمی کامیابی خرید لے۔

No comments:
Post a Comment