Discover Pakistan's very first online Urdu digest curated by Aleena Khan. Read top-rated romantic and social Urdu novels, thrilling horror stories, travelogues, and historical articles. The ultimate digital reading hub for Urdu literature lovers and emerging writers.

Top Menu

test

Wednesday, September 9, 2026

انتظار - ایک رومانوی اردو کہانی | ہماری ڈائجسٹ ڈیجیٹل

 انتظار

انتظار اردو افسانہ از صغیر جعفری | محبت اور جدائی کی دردناک کہانی | ہماری ڈائجسٹ ڈیجیٹل

"کچھ محبتیں ختم نہیں ہوتیں... وہ صرف انتظار بن جاتی ہیں۔"
— ہماری ڈائجسٹ ڈیجیٹل

تحریر صغیر جعفری
ایران کے خوبصورت شہر مشہد کے خیابان آیت اللہ شیرازی کے سامنے والی شاہراہ پر میں اپنی دھن میں مگن چلا آ رہا تھا۔ ایک موڑ پر سڑک پار کرنی تھی۔ تیز رفتار گاڑیاں سامنے سے زوں زوں گزر رہی تھیں۔ ایک بار سڑک صاف دیکھ کر میں نے قدم بڑھایا تو میرے ساتھ ہی ایک لڑکی بھی آگے بڑھی۔ عین اسی وقت ایک برق رفتار کار نے تیزی سے موڑ کاٹا تو وہ بے قابو ہو گئی۔ میرے ساتھ جو لڑکی تھی وہ مجھ سے تھوڑا آگے تھی وہ کار کی زد سے خوفزدہ ہو کر پیچھے ہٹتے ہوئے لڑکھڑا کر گرتے ہوئے سامنے سے آ کر مجھ سے ٹکرا گئی اور اس زور سے ٹکرائی کہ سنبھلنا مشکل ہو گیا۔ اس کا تھرتھر کانپتا ہوا جسم میرے ہاتھوں کے حصار میں پیوست ہو گیا۔ اس کا نازک سینہ میرے سینے کے ساتھ چپک کر رہ گیا مگر اس وقت مجھے کچھ اچھا نہیں لگا کیونکہ یہ سب کچھ غیر دانستہ طور پر ہوا تھا۔ اسی وقت میں نے اسے اپنے سے الگ کیا تو خوف کی وجہ سے اس کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ اس نے میری طرف دیکھتے ہوئے بمشکل کہا:
"شکریہ۔"
مجھے فارسی زبان نہیں آتی تھی تو میں کچھ نہ بولا اور تھوڑی دیر کے بعد میں نے بھی کہا:
"شکریہ۔"
اس کی طبیعت کچھ بہتر ہو گئی تھی اس نے غیر ارادی طور پر میرا ہاتھ مضبوطی سے پکڑ لیا۔ میں نے اس کے چہرے کی طرف غور سے دیکھا۔ وہ انتہائی خوبصورت تھی سرخی مائل رنگت اور ہونٹ اس کی رنگت سے بھی زیادہ سرخ تراشے ہوئے سیاہ بال۔ اندازاً عمر بائیس سال کے لگ بھگ ہو گی۔ فارسی مجھے تھوڑی سی ہی آتی تھی ایک سو میٹر کے فاصلے پر ایک ریسٹورنٹ تھا تو میں اسے لے کر اس میں داخل ہو گیا۔ اس نے اس دوران میرا ہاتھ پکڑے رکھا۔ ایک میز پر بیٹھ کر میں نے اپنی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا:
"پاکستانی۔"
اس نے خوشی سے اردو میں کہا:
"آپ کا بہت شکریہ۔ آپ نے مجھے گرنے سے بچایا۔"
اب میں اسے کیا کہتا کہ میں نے کب بچایا ہے وہ تو خود گرتے ہوئے میری بانہوں میں آ گری تھی۔ تعارف پر اس نے بتایا کہ اس کا نام زیبا ہے وہ یونیورسٹی لائبریری میں منتظم ہے۔ اردو اس نے پاکستانی سفارت خانے میں اردو کلاسز لیتے ہوئے سیکھی ہے۔ میں نے اسے اپنا تعارف کرواتے ہوئے کہا کہ میں طاہر زیدی ہوں اور امام رضا علیہ السلام کے روضے پر حاضری کے لیے آیا ہوں۔ اس نے میری طرف دیکھتے ہوئے کہا:
"خوش آمدید۔ مجھے تم سے مل کر خوشی ہوئی کہ تم میری طرح سید زادے ہو اور سب سے بڑھ کر میرے ہم مسلک ہو۔"
انار کا جوس پینے کے بعد وہ بالکل فریش ہو گئی تو اس نے مجھے کہا:
"طاہر اگر تمہارے پاس وقت ہے تو مجھے میرے گھر چھوڑ دو۔"
میں اس کے ساتھ چل دیا۔ اس کا گھر پرانے مشہد کی تین نمبر گلی میں تھا چھوٹا سا خوبصورت گھر تھا۔ اس کے ساتھ اس کی بوڑھی خالہ تھی مجھے دیکھ کر وہ تھوڑی پریشان ہو گئی تو زیبا نے میرا تعارف کروایا تو وہ مطمئن اور خوش ہو گئی۔ چونکہ وہ فارسی میں باتیں کر رہی تھیں تو مجھے کچھ سمجھ میں نہیں آیا۔ کچھ دیر وہاں رکنے کے بعد میں چلنے لگا تو زیبا نے کہا:
"تم جتنے بھی دن ادھر مشہد میں ہو شام کے وقت گھر آیا کرو گے تو مجھے خوشی ہو گی کیونکہ دن میں میری ڈیوٹی یونیورسٹی لائبریری میں ہوتی ہے۔"
اگلے دن میں دانستہ طور پر نہیں گیا مگر اس سے اگلے دن شام کے وقت اس کے گھر پہنچ گیا۔ وہ بہت خوش ہوئی اور مجھے کھانا کھانے کے لیے اصرار کرنے لگی۔ ایرانی پلاؤ اور بکرے کا گوشت اس نے پکایا اور تازہ روٹیاں بازار سے نانبائی سے لے کر آئی۔ میں نے ایران میں یہ چیز نوٹ کی کہ روٹیاں کسی بھی گھر میں نہیں پکائی جاتیں۔ کھانا کھانے کے بعد میں کافی دیر بیٹھ کر زیبا کے ساتھ گپ شپ کرتا رہا اور واپس آ گیا۔ اگلے دن شام سے پہلے ہی جانے کے لیے بے چین ہو گیا۔ مجھے سمجھنے میں دیر نہیں لگی کہ دل میں زیبا کے لیے محبت پیدا ہو گئی ہے۔ آج میں نے اظہارِ محبت کا پختہ ارادہ کر لیا تھا۔ اس کے پاس کافی وقت بیٹھنے کے بعد میں نے کہا:
"زیبا اگر تم محسوس نہ کرو تو میں اپنے دل کی آواز تمہیں سنانا چاہتا ہوں۔"
تو اس نے کہا:
"ارشاد میں ہمہ تن گوش ہوں۔"
 ایسی درد بھری اردو کہانی، جس کا آخری جملہ شاید آپ کبھی نہ بھول سکیں... 
"کاش..." ابھی پڑھیں۔👇👇

تو میں نے کہا:
"زیبا سچی بات تو یہ ہے کہ مجھے تم سے محبت ہو گئی ہے اور میں مخلص ہوں۔"
کچھ دیر کے بعد وہ بولی:
"جب سے میرے والدین فوت ہوئے ہیں اس کے بعد میں خوش رہنا بھول گئی تھی۔ جس دن تم سے اتفاق سے میری اور تمہاری ٹکر ہوئی زندگی میں پہلی بار کسی مرد کی بانہوں کا حصار بنی جو مجھے اچھا لگا مگر میں اظہار نہیں کر سکی۔ میرا بھی حال تمہارے جیسا ہے یہ حسین اتفاق میں زندگی بھر نہیں بھلا پاؤں گی۔"
اس کے ساتھ اس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ پھر اس نے میرا ہاتھ مضبوطی سے پکڑ کر کہا:
"طاہر میں تمہارا انتظار کروں گی زندگی بھر۔"
زیبا کے والدین حج کے موقع پر شیطان کو کنکریاں مارتے ہوئے بھگدڑ میں حجاج کے نیچے آ کر فوت ہو گئے تھے۔ اس حادثے کے بعد وہ اپنی خالہ کو اپنے گھر لے آئی تھی۔
سات دن میرے پلک جھپکتے میں گزر گئے۔ وہ مجھے الوداع کہنے مشہد ایئرپورٹ پر آئی اور میرے گلے لگتے ہوئے روتے ہوئے کہا:
"خدا حافظ طاہر خدا حافظ۔ میں تمہارا انتظار کروں گی۔ خدا حافظ۔"
میں بوجھل دل کے ساتھ خدا حافظ کہتے ہوئے چل دیا۔
سچی بات تو یہ ہے کہ میں پاکستان تو آ گیا تھا مگر دل میرا وہیں ایران میں اٹکا ہوا تھا۔ کمپنی کے کاموں میں مصروف ہو گیا اور اپنے آپ کو مصروف رکھنے میں لگا رہا۔ اس دوران امی میری شادی کے لیے اصرار کرنے لگیں تو میں نے بلا خوف کہا:
"امی میں شادی کروں گا تو صرف زیبا سے۔"
امی میری شادی اپنی بہن کی بیٹی سے کرنا چاہتی تھیں مگر میرے اصرار پر رضامند ہو گئیں۔ اگلے سال محرم سے پہلے ہم نے ایران جانے کی تیاری کر لی۔ امی کی خواہش تھی کہ میرا نکاح حرمِ رضا میں ہو۔ امی نے بڑی خوشی سے زیبا کے لیے عروسی جوڑے تیار کروائے اور ہم تین صفر کو کراچی سے مشہد ایران ایئر لائن کے ذریعے پہنچ گئے۔ ایئرپورٹ کے قریب ہی ایک ہوٹل میں دو کمرے لیے۔ شام کو میں بڑی بے تابی سے زیبا کے گھر پہنچا تو اس گھر کے مقیم بدلے ہوئے تھے۔ انہوں نے مجھے انگریزی میں بتایا کہ زیبا نے یہ گھر ہمیں فروخت کر کے یونیورسٹی کے قریب اپنا گھر خرید لیا ہے اور اپنی خالہ کو بھی ساتھ لے گئی ہے۔
میں بھاگم بھاگ یونیورسٹی پہنچا جو کہ بند ہو چکی تھی۔ باہر لان کے کنارے پر ایک بزرگ بیٹھے تھے جو انگریزی سمجھتے تھے۔ میں نے ان سے زیبا کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا:
"ہاں ہاں وہی جس نے اپنی نیم پلیٹ پر لکھا ہوا تھا زیبا طاہر زیدی؟ وہ تو بیچاری۔۔۔"
میں نے گھبرا کر پوچھا:
"کیا ہوا خیریت تو ہے؟"
تو بزرگ نے دکھی دل سے بتایا:
"خیریت نہیں ہے ایک مہینہ پہلے خیابان آیت اللہ شیرازی کے چوک کے قریب شاہراہ پر ایک تیز رفتار کار نے اسے کچل دیا۔ وہ بری طرح زخمی ہو گئی اور تین دن بعد ہسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے فوت ہو گئی۔"
میں چکرا کر نیچے گر گیا۔
اب میرے پاس امی جی کو بتانے کے لیے کچھ نہیں بچا تھا۔
ختم شد

ایک نہیں... دو نہیں... پورے 20 ایسے اردو افسانے، جو آپ کو ہر صفحے پر ایک نئی دنیا میں لے جائیں! ✨

💔 کہیں محبت ہے... کہیں جدائی...
😢 کہیں غربت کی تلخ حقیقت...
😲 کہیں سسپنس ایسا کہ آخری سطر تک تجسس برقرار رہے...
🌸 اور کہیں ایسے جذبات، جو دیر تک دل میں اتر جائیں۔

جولائی شمارہ ہماری ڈائجسٹ ڈیجیٹل کا پہلا خصوصی شمارہ ہے، جس میں 20 منتخب اور منفرد اردو افسانے شامل کیے گئے ہیں۔ محبت، سماجی مسائل، سسپنس، جذبات اور زندگی کی تلخ و شیریں حقیقتوں پر مبنی یہ افسانے آپ کو شروع سے آخر تک اپنے سحر میں باندھے رکھیں گے۔

اگر آپ معیاری اردو افسانے پڑھنے کے شوقین ہیں تو جولائی شمارہ ابھی پڑھیں۔👇👇

#ہماری_ڈائجسٹ_ڈیجیٹل #جولائی_شمارہ #اردو_افسانے #اردو_ادب #ماہانہ_ڈائجسٹ #ShortStories #UrduStories #UrduLiterature

No comments:

Social Icons

Hidden_Menu

Above Post Title Slider

HOME, MENU
Powered by Blogger.

Post Top Ad

Your Ad Spot

Pages