Discover Pakistan's very first online Urdu digest curated by Aleena Khan. Read top-rated romantic and social Urdu novels, thrilling horror stories, travelogues, and historical articles. The ultimate digital reading hub for Urdu literature lovers and emerging writers.

Top Menu

test

Wednesday, September 9, 2026

: آن لائن قرضہ ایپ کا جال: سود کی نئی شکل | طارق بلال لیل | ہماری ڈائجسٹ

 آن لائن قرضہ ایپ کا جال: سود کی نئی شکل

‏آن لائن قرضہ ایپ کے جال اور سود پر پریشان شخص، طارق بلال لیل کے مضمون کے لیے ہماری ڈائجسٹ کا خصوصی گرافک۔

از قلم: طارق بلال لیل

موبائل کی سکرین پر اشتہار آتا ہے: "5 منٹ میں 50 ہزار کا لون۔ کوئی ضمانت نہیں، کوئی کاغذ نہیں۔ بس CNIC کی تصویر بھیجیں!"

نوجوان بے روزگار ہے، گھر میں راشن ختم ہے اور بجلی کا بل سر پر ہے۔ وہ مجبوراً لنک پر کلک کرتا ہے؛ ایپ انسٹال ہوتی ہے اور 10 منٹ کے اندر 30 ہزار روپے اس کے اکاؤنٹ میں آ جاتے ہیں۔ بظاہر لگتا ہے کہ مسئلہ حل ہو گیا ہے، لیکن اصل جہنم 15 دن بعد شروع ہوتا ہے۔ روزانہ 20 کالز، گالیاں، اور رشتہ داروں کو میسج: "یہ شخص فراڈیا ہے، پیسے نہیں دے رہا۔" اور سب سے بڑا دھچکا یہ کہ 30 ہزار کے بدلے 55 ہزار روپے واپس مانگے جا رہے ہیں! یہ کوئی معتبر بینک نہیں، بلکہ آن لائن قرضہ ایپس کا جال ہے—سود کی جدید اور سب سے خطرناک شکل!

سب سے پہلے یہ ایپس پلے سٹور پر آتی ہیں۔ لوگوں کو دھوکہ دینے کے لیے ان کے نام انتہائی اسلامی یا پرکشش رکھے جاتے ہیں، جیسے "آسان قرضہ"، "مدد ایپ" یا "فوری کیش"۔ اشتہار میں دعویٰ کیا جاتا ہے: "0 فیصد سود"؛ اور ضرورت مند نوجوان اس لالچ میں آ جاتا ہے۔

ایپ انسٹال ہوتے ہی یہ آپ کا پورا موبائل ہیک کر لیتی ہے۔ آپ کے فون کے کانٹیکٹس، گیلری کی تصویریں، واٹس ایپ چیٹ اور لوکیشن—سب ان کے پاس چلے جاتے ہیں۔ پھر یہ 15 دن کے لیے 30 ہزار روپے کا قرضہ دیتی ہیں، لیکن کٹوتی کے بعد اکاؤنٹ میں صرف 24 ہزار روپے آتے ہیں۔ 6 ہزار روپے "سروس چارج" کے نام پر پہلے ہی کاٹ لیے جاتے ہیں اور 15 دن بعد پورے 30 ہزار واپس مانگے جاتے ہیں۔ یعنی 6 ہزار روپے کا سود صرف 15 دن میں! اگر سالانہ حساب لگائیں تو یہ سود 292 فیصد بنتا ہے۔ یہ عام سود نہیں، بلکہ اس سے بھی بدتر اور ظالمانہ سود ہے۔

سب سے بڑا ظلم انسان کی عزت پر ہوتا ہے۔ جب کوئی شخص وقت پر پیسے واپس نہ کر سکے، تو یہ ایپس بلیک میلنگ پر اتر آتی ہیں۔ آپ کی گیلری سے تصاویر نکال کر انہیں ایڈٹ کیا جاتا ہے اور آپ کے والد، اساتذہ اور بہن بھائیوں کو واٹس ایپ پر بھیج کر لکھا جاتا ہے: "آپ کے بیٹے نے قرضہ لیا ہے اور واپس نہیں کر رہا۔"

ہڑپہ اور گرد و نواح میں نے دو خودکشی کے کیس اپنی آنکھوں سے دیکھے ہیں۔ ایک لڑکے نے 20 ہزار روپے لیے تھے، جس کے بدلے 45 ہزار روپے مانگے گئے۔ جب وہ رقم نہ دے سکا تو اس کی بہن کی تصویر فیس بک پر لگا دی گئی۔ غیرت کا جنازہ نکل گیا اور بالآخر اس لڑکے نے زہر کھا لیا۔ یہ صرف مالی فراڈ نہیں، یہ کھلم کھلا قتل ہے! یہ بینک نہیں، بلکہ ڈیجیٹل بھتہ خور ہیں۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے 2023ء میں 160 سے زائد غیر قانونی ایپس کی فہرست جاری کی تھی، اور FIA سائبر کرائم بھی ان کے خلاف چھاپے مار رہا ہے۔ لیکن بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے جب ایک ایپ بند کرتے ہیں، تو 10 نئی ایپس سامنے آ جاتی ہیں۔ ان کے سرور دبئی، کمپنیاں ہانگ کانگ اور کال سینٹرز کراچی میں قائم ہوتے ہیں، جہاں تک قانون کے ہاتھ آسانی سے نہیں پہنچ پاتےے۔

دوسری طرف ضرورت مند عوام ہے؛ بینک لون نہیں دیتا کیونکہ وہ ضمانتیں، کاغذات اور ایک ایک مہینے کا وقت مانگتا ہے۔ غریب کے پاس دو دن کا وقت بھی نہیں ہوتا، اسی لیے وہ مجبوراً اس جال میں پھنس جاتا ہے۔

قرآنِ پاک میں اللہ تعالیٰ نے سود کو اپنے اور اپنے رسول کے خلاف کھلا اعلانِ جنگ قرار دیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: "اللہ سود کو مٹاتا ہے اور صدقات کو بڑھاتا ہے۔" نبی کریم ﷺ نے سود کھانے والے، کھلانے والے، لکھنے والے اور اس کے گواہوں—سب پر لعنت فرمائی ہے۔ یہ آن لائن ایپس سود کے ساتھ ساتھ دھوکہ دہی، بلیک میلنگ اور عفت و عزت کی پامالی کا سبب بھی بن رہی ہیں۔ یعنی ایک تیر سے کئی شکار! یہ صرف معاشی جرم نہیں، بلکہ ایک سنگین اخلاقی اور روحانی تباہی ہے۔

عام آدمی کے لیے حفاظتی تدابیر

اگر آپ یا آپ کا کوئی عزیز اس میں پھنس جائے، تو یہ تین کام لازمی کریں:

  1. غیر معروف ایپس سے پرہیز: پلے سٹور سے کبھی بھی غیر معروف لون ایپ انسٹال نہ کریں۔ اگر بالفرض انسٹال کرنی بھی پڑے، تو اسے اپنے کانٹیکٹس اور گیلری تک رسائی (Permissions) ہرگز نہ دیں۔

  2. قانون سے رجوع کریں: اگر آپ اس جال میں پھنس چکے ہیں، تو ڈرنے کی بالکل ضرورت نہیں، کیونکہ وہ خود چور ہیں۔ فوراً FIA سائبر کرائم ونگ کی ہیلپ لائن 9911 پر رپورٹ کریں، گالی گلوچ کرنے والے نمبرز بلاک کریں اور قریبی پولیس اسٹیشن میں درخواست دیں۔

  3. متبادل ذرائع اپنائیں: اپنے علاقے کی فلاحی تنظیموں، بیت المال یا مسجد کی زکوٰۃ کمیٹی سے رابطہ کریں۔ 30 ہزار روپے کا سودی قرضہ لینے سے بدرجہا بہتر ہے کہ انسان 10 ہزار کا قرضِ حسنہ مانگ لے۔

ہماری اجتماعی ذمہ داری

  • والدین: اپنے بچوں کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم رکھیں اور ان سے پوچھتے رہیں کہ انہیں کسی مالی ضرورت کا سامنا تو نہیں۔

  • اساتذہ و علماء: اساتذہ سکولوں اور کالجوں میں طلبا کو ان ایپس کے خطرات سے آگاہ کریں، اور علماء کرام جمعہ کے خطبات میں سود کی قباحت اور اس کے دنیاوی و اخروی نقصانات بیان کریں۔

  • حکومت و بینکنگ سیکٹر: حکومت پلے سٹور اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز سے ایسی تمام ایپس کا فوری طور پر خاتمہ کرائے۔ نیز، بینکوں کو چاہیے کہ وہ عام اور غریب آدمی کے لیے 10 ہزار سے 50 ہزار روپے تک آسان اور فوری مائیکرو لونز (قرضِ حسنہ) کا نظام قائم کریں، تاکہ لوگ مجبوری میں ان ڈیجیٹل سود خوروں کے پاس نہ جائیں۔

یاد رکھیے! 5 منٹ کا یہ "آسان قرضہ" 5 سال کی ذلت بن جاتا ہے۔ وقت کی عارضی ضرورت پوری کرنے کے چکر میں اپنی عزت، سکونِ قلب اور آخرت کو داؤ پر مت لگائیں۔ رزق کا ضامن صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ اگر تنگی آئے تو صبر سے کام لیں اور جائز و حلال راستے اپنائیں، لیکن ان سود خور ایپس کے آگے ہرگز مت جھکیں۔ یہ آپ کو قرضہ نہیں دیتے، بلکہ آپ کی روح اور سکون خریدتے ہیں۔

ہوشیار رہیں، محفوظ رہیں! اللہ تعالیٰ ہم سب کو حرام کی دلدل سے بچائے اور حلال و طیب رزق عطا فرمائے۔ آمین!


‏شہرت کی چکا چوند میں چھپی عروضی اغلاط اور سرقہ نویسی کا پردہ چاک! نامور شعرا کے کلام اور جدید اردو شاعری کے زوال پر صغیر جعفری کا تحریر کردہ تہلکہ خیز مضمون ہماری ڈائجسٹ پر پڑھیں۔👇👇👇

صغیر جعفری کے مضمون "شاعری یا تک بندی؟" کے لیے ہماری ڈائجسٹ کا خصوصی گرافک، جس میں ایک ادبی محفل دکھلائی گئی ہے۔


No comments:

Social Icons

Hidden_Menu

Above Post Title Slider

HOME, MENU
Powered by Blogger.

Post Top Ad

Your Ad Spot

Pages